100 USDT کی لاگت

کیا Binance پاکستان میں لائسنس یافتہ ہے؟ PVARA کا NOC اور VASP لائسنس ایک چیز نہیں

PVARA کے اپنے صفحات کے مطابق Binance اور HTX کو NOC ملا، مگر اسی اتھارٹی کا سوال نامہ کہتا ہے کہ NOC کام کرنے کا لائسنس نہیں۔ 3 اکتوبر 2026 کو ریگولیٹر کی ویب سائٹ سے لی گئی تاریخیں، سرمایہ کی شرائط اور وہ ایک سوال جو آپ کسی بھی پلیٹ فارم سے پوچھ سکتے ہیں۔

کیا Binance پاکستان میں لائسنس یافتہ ہے؟ PVARA کا NOC اور VASP لائسنس ایک چیز نہیں

«Binance کو پاکستان میں کلیئرنس مل گئی» جیسی سرخی پڑھنے کے بعد سب سے عام سوال یہی ہوتا ہے: تو کیا اب یہ پلیٹ فارم پاکستان میں باقاعدہ لائسنس یافتہ ہے؟ جواب ریگولیٹر کی اپنی ویب سائٹ پر موجود ہے، اور وہ سرخی سے خاصا مختلف ہے۔

مختصر جواب یہ ہے: NOC اور لائسنس ایک چیز نہیں ہیں۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے اپنے صفحات کے مطابق Binance اور HTX کو No Objection Certificate (NOC) جاری ہوا، اور اسی اتھارٹی کے سوال نامے میں صاف لکھا ہے کہ NOC کسی ورچوئل ایسٹ سروس کو چلانے کا لائسنس نہیں ہوتا۔

ریگولیٹر کے صفحے پر کیا لکھا ہے

PVARA کے «News & Updates» صفحے پر یہ اعلان موجود ہے کہ اتھارٹی نے Binance اور HTX سمیت بڑے عالمی ایکسچینجز کو NOC دیے۔ صفحے پر درج تاریخ 12 دسمبر 2025 ہے:

PVARA کی ویب سائٹ کے News صفحے پر موجود خبر: اتھارٹی نے Binance اور HTX سمیت بڑے عالمی کرپٹو ایکسچینجز کو no objection certificates جاری کیے، تاریخ 12 دسمبر 2025

اب اسی ویب سائٹ کا سوال نامہ دیکھیے۔ سوال 14 کا عنوان ہی یہ ہے کہ «کیا NOC مجھے کام شروع کرنے کی اجازت دیتا ہے؟» اور جواب ایک ہی لفظ سے شروع ہوتا ہے — No:

PVARA کے FAQ صفحے کے سوال 13 اور 14: NOC مکمل درخواست ملنے کے 60 دن میں جاری یا مسترد ہوتا ہے، تین ماہ کے لیے کارآمد رہتا ہے، اور NOC کسی ورچوئل ایسٹ سروس کا لائسنس نہیں ہوتا

انہی دو سوالوں سے تین باتیں طے ہو جاتی ہیں۔ اتھارٹی مکمل درخواست ملنے کے 60 دن کے اندر NOC دیتی یا مسترد کرتی ہے۔ NOC صرف تین ماہ کے لیے کارآمد رہتا ہے اور میعاد ختم ہونے سے پہلے درخواست پر زیادہ سے زیادہ تین ماہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اور NOC اس بات کی ضمانت بھی نہیں کہ لائسنس مل ہی جائے گا — غلط یا ادھوری معلومات پر لیا گیا NOC واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔

قانون کی ٹائم لائن

مرحلہ تاریخ
آرڈیننس کا نفاذ جولائی 2025
Virtual Assets Act, 2026 کا نفاذ مارچ 2026
دونوں ریگولیشنز کا گزٹ نوٹیفکیشن اور نفاذ 21 اگست 2026
سیکشن 70 کے تحت عبوری اداروں کی آخری تاریخ 5 ستمبر 2026

PVARA نے ایکٹ کی دفعہ 68 کے تحت دو ریگولیشنز بنائے — Pakistan Virtual Asset Services Regulations, 2026 اور Pakistan Virtual Asset Activity Specific Regulations, 2026 — اور دونوں 21 اگست 2026 کو گزٹ ہوتے ہی نافذ ہو گئے۔ ہوم پیج پر سب سے نمایاں اطلاع عبوری اداروں کے لیے ہے: جو 5 مارچ 2026 یا اس سے پہلے سے کام کر رہے تھے، انہیں 5 ستمبر 2026 تک NOC کی درخواست جمع کرانی تھی، ورنہ کام بند کرنا تھا۔

PVARA کے ہوم پیج کا سیکشن جس میں دونوں ریگولیشنز کے لنک اور عبوری اداروں کے لیے 5 ستمبر 2026 کی آخری تاریخ درج ہے

NOC سے لائسنس تک تین قدم

سوال نامے کے حصہ D میں پورا راستہ لکھا ہے:

  1. NOC کی درخواست — Services Regulations کے Form I پر۔ فیصلہ 60 دن میں۔
  2. پاکستان میں کمپنی کا قیام — Companies Act, 2017 کے تحت، کم از کم تین ڈائریکٹرز کے ساتھ۔ یہ قدم NOC ملنے کے بعد آتا ہے۔
  3. لائسنس کی درخواست — NOC کی میعاد کے اندر۔ مکمل درخواست پر فیصلہ 90 دن میں، اور پیچیدہ کیس میں 60 دن مزید بڑھ سکتا ہے۔

یعنی پہلے قدم اور آخری منظوری کے درمیان کمپنی کا مقامی قیام اور مکمل جانچ باقی رہتی ہے۔ جب تک تیسرا قدم مکمل نہ ہو، کسی پلیٹ فارم کے پاس پاکستانی VASP لائسنس نہیں ہوتا۔

آپ خود لائسنس کی تصدیق کیسے کریں

سوال 4 دو راستے دیتا ہے: اتھارٹی لائسنس یافتہ اداروں کا تازہ عوامی رجسٹر شائع کرتی ہے، اور علیحدہ طور پر ہر لائسنس یافتہ ادارے کو اپنی ویب سائٹ پر اپنا قانونی نام، پاکستان میں رجسٹرڈ دفتر کا پتہ، رابطہ تفصیلات، لائسنس نمبر اور وہ License Categories شائع کرنی ہوتی ہیں جن کی اسے اجازت ملی ہے۔

PVARA کے FAQ کے سوال 4 اور 5: اتھارٹی لائسنس یافتہ اداروں کا عوامی رجسٹر شائع کرتی ہے اور ہر لائسنس یافتہ ادارہ اپنی ویب سائٹ پر لائسنس نمبر دیتا ہے؛ لائسنس صرف Companies Act 2017 کے تحت قائم کمپنی لے سکتی ہے

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک سیدھا سوال موجود ہے: لائسنس نمبر کیا ہے؟ جو ادارہ نمبر نہ دکھا سکے، وہ لائسنس یافتہ نہیں۔

ایک بات صاف لکھ دینا ضروری ہے۔ 3 اکتوبر 2026 کو ہم نے pvara.gov.pk کا مینو دیکھا — Home، About، Licensing، Legal Framework، News اور Complaints — اس میں رجسٹر کا کوئی صفحہ نہیں تھا، اور ‎/register‎، ‎/licensees‎ اور ‎/public-register‎ جیسے پتے 404 دے رہے تھے۔ یعنی آج کے دن عام صارف کے لیے واحد قابلِ عمل جانچ یہی ہے کہ پلیٹ فارم کی اپنی ویب سائٹ پر لائسنس نمبر اور پاکستانی دفتر کا پتہ موجود ہے یا نہیں، اور شک ہو تو اتھارٹی سے پوچھا جائے۔

سرمایہ کی شرط بتاتی ہے کہ فہرست چھوٹی ہی رہے گی

Services Regulations کے Schedule I میں ہر License Category کے لیے کم از کم ادا شدہ سرمایہ (paid-up capital) طے ہے۔ Exchange Services کے لیے یہ 50 کروڑ روپے ہے، Custody کے لیے 20 کروڑ، اور Advisory کے لیے ڈیڑھ کروڑ:

PVARA کے FAQ کے سوال 11 کا جدول: ہر License Category کے لیے کم از کم ادا شدہ سرمایہ، جس میں Exchange Services کے لیے 50 کروڑ روپے اور Advisory Services کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے درج ہیں

ہر صورت میں درخواست دہندہ کو پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنی ہونا ہوگا جس کے کم از کم تین ڈائریکٹرز ہوں۔ سوال 21 کے مطابق سو فیصد غیر ملکی ملکیت پر پابندی نہیں، لیکن کمپنی پاکستان میں بننا لازم ہے۔ ان شرائط کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ لائسنس یافتہ پلیٹ فارمز کی فہرست گنتی کے چند ناموں پر مشتمل رہے گی — اور اسی لیے «ہمیں بھی اجازت مل گئی ہے» جیسے دعوے نمبر کے بغیر قبول نہیں کرنے چاہئیں۔

اور ایک عام P2P صارف؟

یہاں احتیاط سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ سوال 5 کہتا ہے کہ کوئی شخص بطور کاروبار پاکستان میں یا پاکستان سے کوئی ورچوئل ایسٹ سروس اس وقت تک نہیں دے سکتا جب تک وہ Companies Act, 2017 کے تحت قائم کمپنی نہ ہو اور متعلقہ کیٹیگری کا لائسنس نہ رکھتا ہو۔ یعنی انفرادی شخص یہ لائسنس لے ہی نہیں سکتا، چاہے وہ چاہے۔

تین باتیں کھل کر کہنا ضروری ہیں:

  • دائرہ کار صرف پاکستان میں دفتر رکھنے والوں تک محدود نہیں۔ سوال 6 کے مطابق سرگرمی «in or from Pakistan» شمار ہوتی ہے اگر وہ پاکستان میں موجود افراد کو ہدف بناتی ہے، ان تک مارکیٹنگ پہنچاتی ہے، پاکستانی پیمنٹ ریلز استعمال کرتی ہے یا PKR میں خدمات دیتی ہے۔
  • 3 اکتوبر 2026 کو ہم نے PVARA کے FAQ صفحے کے پورے متن میں «P2P» اور «peer-to-peer» تلاش کیے — ایک بار بھی موجود نہیں۔ یعنی ذاتی خرید و فروخت اور «کاروبار» کے درمیان کوئی شائع شدہ عددی حد موجود نہیں۔
  • اگر آپ روزانہ تجارتی پیمانے پر خرید و فروخت کرتے ہیں تو یہ اندازے کا نہیں، وکیل سے پوچھنے کا سوال ہے۔

عام صارف کے لیے، جو مہینے میں چند بار اپنے استعمال کے لیے 100 USDT خریدتا یا بیچتا ہے، ان ریگولیشنز میں لائسنس لینے کا کوئی تقاضا نہیں۔

آج آپ کے آرڈر پر اس کا کیا اثر ہے

عملی جواب: فی الحال کوئی نہیں۔ 3 اکتوبر 2026 کو Binance P2P کے عوامی اشتہار سرچ سے PKR خریداری کی طرف 623 اشتہارات ملے اور سب سے کم ریٹ 282.97 روپے فی USDT تھا (بینک ٹرانسفر اور Raast)۔ مارکیٹ معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

قانون پلیٹ فارم کو ریگولیٹ کرتا ہے، آپ کے ایک آرڈر کو نہیں۔ اس لیے آپ کی حفاظت کے اصول وہی ہیں جو پہلے تھے:

شکایت کہاں جاتی ہے

PVARA کے Complaints صفحے پر چار اقسام درج ہیں: مشتبہ فراڈ، بغیر لائسنس کام کرنے والا VASP، لائسنس یافتہ ادارے کی بدانتظامی، اور دیگر شکایات۔ صفحے کے مطابق ابتدائی وصولی کی اطلاع دو کاروباری دن میں آتی ہے اور تحقیق 30 سے 60 دن لے سکتی ہے۔

لیکن یہ راستہ اداروں کے بارے میں ہے۔ اگر جھگڑا آپ کے P2P فریقِ مقابل سے ہے — رقم نہیں آئی، یا ٹائمر ختم ہو گیا — تو پہلا قدم پلیٹ فارم کی اپیل ہے، نہ کہ ریگولیٹر۔ وہ ترتیب ہم نے 100 USDT بیچنے کے بعد رقم نہ آنے والے مضمون میں لکھی ہے۔

ذرائع

سب لنک 3 اکتوبر 2026 کو دیکھے گئے:

یہ مضمون شائع شدہ قانونی متن کی وضاحت ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ تجارتی پیمانے پر کام کرنے والوں کو وکیل سے رجوع کرنا چاہیے۔